ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بی جے پی کا جموں میں احتجاجی دھرنا، محبوبہ مفتی کا پتلا پھونک ڈالا

بی جے پی کا جموں میں احتجاجی دھرنا، محبوبہ مفتی کا پتلا پھونک ڈالا

Sat, 14 Jul 2018 23:53:09    S.O. News Service

جموں ،14جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کارکنوں نے ہفتہ کے روز یہاں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر اور سابقہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے بیان کہ ’اگر نئی دہلی (مرکزی حکومت) پی ڈی پی کو توڑنے اور عوام کے ووٹوں پر شب خون مارنے کی مرتکب ہوئی تو کشمیر میں نئے صلاح الدین (حزب المجاہدین سپریم کمانڈر سید صلاح الدین) اور یاسین ملک (جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ چیئرمین) جنم لے سکتے ہیں‘ کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا۔

احتجاجی کارکنوں نے محترمہ مفتی کا پتلا بھی پھونک ڈالا۔ ہفتہ کو دوپہر کے وقت یہاں کچی چھاونی چوک میں درجنوں بی جے پی کارکن جمع ہوئے اور محبوبہ مفتی کے خلاف نعرے بازی شروع کردی۔ احتجاجی کارکنوں جنہوں نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈاور بی جے پی کے پرچم اٹھا رکھے تھے ، نے ’محبوبہ مفتی ہائے ہائے، بھارت کے غداروں کو جوتے مارو ساروں کو ، بھارت ماتا کی جے ، جہاں ہوئے بلیدان مکھرجی وہ کشمیر ہمارا ہے، بھاریہ جنتا پارٹی زندہ باد‘ جیسے نعرے لگائے۔

بی جے پی کارکنوں نے احتجاجی دھرنے کے دوران پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کا پتلا بھی پھونک ڈالا۔ احتجاجی کارکنوں کی قیادت کرنے والے ایک بھاجپا لیڈر نے کہا ’اقتدار چھننے کے بعد محبوبہ مفتی بوکھلا گئی ہے۔ کل اس نے بیان دیا کہ اگر مرکزی حکومت نے کچھ کرنے کی کوشش کی تو میں 1987 جیسے حالات پیدا کروں گی۔ یہاں پر صلاح الدین پیدا ہوں گے۔ محبوبہ مفتی جیسے لوگوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالنا چاہیے۔ ہم گورنر سے اپیل کرتے ہیں کہ ایسے لوگوں جو جنگجویت کو بڑھاوا دیتے ہیں، کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالا جائے۔ یہ ایک شرمناک بیان ہے اور ہم اس کی مذمت کرتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا ’بی جے پی اور پی ڈی پی کا گٹھ جوڑ ترقی کے لئے ہوا تھا۔ جب محبوبہ مفتی نے پتھر بازوں کو چھوٹ دی اور جنگجوؤں کی حمایت کی تو بی جے پی نے اپنے ہاتھ واپس کھینچ لئے۔ ہم چاہتے ہیں محبوبہ مفتی کے بیان پر اس کے خلاف کاروائی ہو‘۔

احتجاجیوں میں شامل ایک بی جے پی خاتون لیڈر نے کہا کہ اگر کشمیر میں ایک صلاح الدین پیدا ہوگیا تو جموں میں دس بھگت سنگھ پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا ’یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ہم سڑکوں پر آئے ہیں۔ جب جب کسی نے دیش کے خلاف بیان دیا تو ہم اس کے خلاف اپنا احتجاج درج کرنے کے لئے سڑکوں پر آئے۔ اگر ہمارا بھی کوئی نیتا ملک مخالف بیان دے گا تو ہم اس کو بھی نہیں بخشیں گے۔ کشمیر میں ایک صلاح الدین پیدا ہوگا تو جموں میں دس بھگت سنگھ پیدا ہوں گے‘۔

واضح رہے کہ محترمہ مفتی نے جمعہ کے روز سری نگر کے خواجہ بازار میں واقع مزار شہداء نقشبند صاحب میں 13 جولائی 1931 کے شہدائے کشمیر کو خراج عقیدت ادا کرنے کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ پی ڈی پی کو توڑنے کی کوششوں کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نئی دہلی پی ڈی پی کو توڑنے اور عوام کے ووٹوں پر شب خون مارنے کی مرتکب ہوئی تو کشمیر میں نئے صلاح الدین اور یاسین ملک جنم لے سکتے ہیں۔

بتادیں کہ بی جے پی نے گذشتہ ماہ پی ڈی پی سے تین سالہ اتحاد توڑ کر ریاستی حکومت کو گرادیا۔ حکومت کے گرنے کے بعد پی ڈی پی کے اندر بغاوت شروع ہوئی اور مبینہ طور پر کم از کم پانچ ممبران اسمبلی بالواسطہ طور پر ریاست میں بی جے پی حکومت بنانے کے لئے کام کررہے ہیں۔


Share: